قطبی تارا

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - وہ روشن تارا جو شمال کی طرف نظر آتا ہے، اس کی وجہ سے سمت کی شناخت میں مسافروں اور جہاز رانوں کو مدد ملتی ہے، (مجازاً) شمع ہدایت چراغ راہ۔ "نیک ماں ہزار مدرسوں کی معلموں کے برابر قدر و قیمت میں ہے . اور وہی سب آنکھوں کے لیے قطبی تارا ہے۔"      ( ١٨٩٤ء، تعلیم الاخلاق، ١٤٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ صفت 'قطبی' کے ساتھ فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'تارا' ملانے سے مرک بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٤ء میں "تعلیم الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ روشن تارا جو شمال کی طرف نظر آتا ہے، اس کی وجہ سے سمت کی شناخت میں مسافروں اور جہاز رانوں کو مدد ملتی ہے، (مجازاً) شمع ہدایت چراغ راہ۔ "نیک ماں ہزار مدرسوں کی معلموں کے برابر قدر و قیمت میں ہے . اور وہی سب آنکھوں کے لیے قطبی تارا ہے۔"      ( ١٨٩٤ء، تعلیم الاخلاق، ١٤٩ )

جنس: مذکر